74

بھاگ کہ لب آزاد ہیں تیرے،طلعت حسین

th


حکومت کے دعوئوں میں بھی کمی نہیں ہو رہی اور نہ ہی اُن خطرات میں جن کا سامنا عام و خاص شہریوں کو روزانہ کرنا پڑ رہا ہے۔ یوں محسو س ہوتا ہے کہ جیسے یہ حکومت پچھلی حکومتوں سے بھی کہیں بڑھ کر ایک ایسے خطے میں آباد ہے جس کا اس سرزمین سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ جس کے احوال اور واقعات پاکستان میں موجود حالات سے مکمل طور پر جدا ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کم از کم حکمران وہ عینکیں وقتی طور پر ہی اتار دیتے جن میں سے سب کچھ اچھا اور ہرا بھرا نظر آتا ہے۔
ایکسپریس چینل کے اینکر اور تجزیہ نگار رضا رومی پر قاتلانہ حملہ اُن واقعات کی کڑی ہے جن کو موجودہ انتظامیہ اور سیاسی حلقوں نے پس پشت ڈال کرخود کو اور اس قوم کو خطرناک دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔ قاتلوں کا نشانہ شاید اتفاقاً خطا ہوگیا وگرنہ انھوں نے ایک اور صحافی کی جان لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اس فائرنگ میں بہر حال قیمتی انسانی جان کا پھر بھی زیاں ہوگیا۔ اور وہ جواں سال جو اپنے گھر سے رزق کا پیچھا کرتے ہوئے اپنے فرائض دیانتداری سے سرانجا م دے رہا تھا اُس آگ کی نظر ہو گیا جو نہ تو اُس کی لگائی ہوئی تھی اور نہ اُس کو قابو میں لانا اُس کی ذمے داری تھی۔
ایکسپریس گروپ پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے پاکستان کے میڈیا کی 67 سالہ تاریخ میں کسی اور گروپ کو اس تسلسل اور شدت سے نشا نہ نہیں بنایا گیا جس طر ح سے بندوقوں کا رخ اس کی طر ف کیا گیا ہے۔ اور یہ باوجود اس کے کہ یہاں سے چھپنے والا مواد ادارتی طور پر انتہا ئی متوازن تصور ہوتا ہے۔ آپ کو شاذ و نادر اُس قسم کے اوچھے اور ترچھے صحافتی حملے بذریعہ کلام یا تقاریر نظر آئیں گے جن کے توسط سے چند دوسرے ذرایع ابلاغ اپنے پڑھنے اور دیکھنے والوں کی توجہ مبذول کرواتے ہیں۔
مگر پھر بھی گولیوں کی برسات ہے کہ ختم ہونے کو ہی نہیں آرہی۔ ظاہر ہے کہ کسی بھی صحافی تنظیم یا ادارے کے لیے اپنے اور اپنے کارکنان کے لیے اس قسم کے حفاظتی انتظامات کرنا ناممکن ہے جو ہر قسم کی دہشت گردی کو غیر موثر بنا دیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی قسم کی کوئی ایسی تدبیر کی بھ.ی نہیں جا سکتی جو قاتل کو اپنے گھنائو نے کا م سے روک سکے۔ اس قسم کا انتظام صرف اور صرف ریاست اور اُس کے ادارے ہی کر سکتے ہیں۔ ریاستی اداروں کے وجود کی بنیا دی وجہ بھی شہر یو ں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ جو ریاستیں اس بنیادی ذمے داری کو سر انجام دینے سے قاصر ہو جاتی ہیں اُن کے بارے میں دنیا بھر میں مختلف حوالوں سے سوال اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں مختلف رائے رکھنے والے اکا دکا نہیں بلکہ کروڑوں لوگ آباد ہیں۔ جب سے نئے طرز کے ذرایع ابلاغ کا طوفان بپا ہو ا ہے ہر کسی کے پاس آواز اٹھا نے اور دوسرے تک پہنچا نے کا کوئی نہ کوئی کامل ذریعہ موجود ہے۔ اگر اختلا ف رائے کو بنیاد بنا کر لوگوں کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تو پاکستان قبرستان بن جائے گا۔ یہاں پر تو ہر ایک فرد تجزیہ نگار ہے اور اپنی رائے کو معتبر و حتمی جانتا ہے۔ اس تناظر میں حکومت کی ذمے داریوں کی نوعیت مزید سنجیدہ ہو گئی ہے۔ اس کے سامنے معاملہ صرف امن و امان قائم کر نے کا نہیں ہے (جس میں وہ پچھلی حکومتو ں کی طرح ناکام نظر آ رہی ہے) بلکہ اُس کی ضما نت مہیا کر نا بھی ہے کہ کوئی شخص واجب القتل صر ف اس وجہ سے قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اُس کا زائویہ نگاہ کسی دوسرے کے مخالف یا متضاد ہے۔
بدقسمتی سے اس ضما نت کے فراہم کر نے والے محض خطر ے کی گھنٹیاں بجانے میں مصروف ہیں۔ یہ چند دن پہلے کی بات ہے کہ محترم وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان فرما رہے تھے کہ وہ تمام عنا صر جو مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں ’’ہٹ لسٹ‘‘ پر ہیں۔ یعنی دوسرے الفاظ میں وہ یا تو اپنی رائے ترک کر دیں اور یا پھر کفن دفن کا بندوبست کریں۔ اگر ہمارے یہاں مجرمانہ غفلت قابل گرفت ہوتی تو ابھی تک کڑا احتساب ہو چکا ہوتا مگر چونکہ یہ زمانہ جاہلیت بنام جمہوریت ہے لہٰذا اپنے فرائض کو سرانجام نہ دینے پر ترقی و عزت ملتی ہے سزا نہیں۔ کسی نے وزیر موصوف سے یہ نہیں پوچھا کہ ’’آقا اس ہٹ لسٹ کو بنا نے والو ں سے نپٹنے کا آپ نے کیا انتظام کیا ہے؟ کیو نکہ آپ کا کام ممکنہ جرم کو روکنا ہے نہ کہ اس کی منادی و تشہیر کرنا‘‘۔
مگر پھر کو نسا سوال پو چھیں اور کون سا چھوڑیں۔ جان کی امان کی غیر موجودگی میں لبو ں کے آزاد ہو نے کا تصور ہی غلط ہے۔ بہرحال یہ تسلی ضرور ہے کہ خطرات کو زائل کرنے میں ناکامی صرف ذرایع ابلاغ کے شعبے سے متعلق ہی نہیں ہے‘ سیکیورٹی تنظیموں کے اعلی افسران بھی اس سہولت سے محروم ہیں۔ ایک خبر کے مطابق ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر چوہدری اظہر بینظیر بھٹو قتل کیس میں سماعت سے غیر حاضر تھے۔ جج صاحبان کے استفسار پر معلوم ہوا کہ حکومت نے ان کی جان کو درپیش خطرات کے تدارک کا کوئی انتظام نہیں کیا لہٰذا ان کے لیے عدالت میں پیش ہونا ممکن نہیں۔ چار محافظوں میں سے تین کو واپس بلوا لینے کے بعد چوہدری اظہر اپنے فرائض کو پورا کر نے کے قابل نہیں ہیں۔ جب ایف آئی اے کے نمایندگان کا یہ حال ہو تو صحافی اور تجزیہ نگار کس کھیت کی مولی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اب خود کو محفوظ رکھنے کے لیے صرف دو ہی راستے رہ گئے ہیں۔ یا تو ہم حکومتی کمیٹی کا حصہ بن جائیں اور یا پھر مولانا سمیع الحق سے درخواست کر کے اکوڑہ خٹک میں جگہ حاصل کر لیں۔ قیمت جو بھی چکا نا پڑے۔ جان تو بچ جائے گی اور پھر وزیر داخلہ بھی ہماری بپتا کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں