91

اخباری بیان اور مکوں والی تصویر،طلعت حسین


وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ آرمی چیف کو تما م تر ضبط کے باوجود ایک ایسا بیان جاری کرنا پڑا جس میں آرمی بطور ادارہ ناخوش نظر آتی ہے اور ذرایع ابلاغ کے چند حصوں کو استعمال کر تے ہو ئے اس پر ہونے والوں حملوں پر ناراض بھی۔ یہ بیان سب نے پڑھا مگر تجزیہ کے لیے اسے دوبارہ شایع کرنا ضروری ہے۔ ’’ایس ایس جی کے افسروں اور جوانوں سے گفتگو میں آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج نے مادر وطن کے تحفظ اور سلامتی کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے نہ کبھی دریغ کیا نہ کرے گی۔ پاک فوج نے قومی حمایت کے ساتھ روایتی ہم آہنگی اور عزم سے ہمیشہ قومی سلامتی اور تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور یہ اہم فریضہ سرانجا م دیتی رہے گی۔ حالیہ دنوں میں فوج کے بارے میں بعض عناصر کی طرف سے غیر ضروری تنقید پر افسروں اور جوانوں کے تحفظات کے حوالے سے چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں جب کہ ملک اندرونی اور بیرونی مشکلات سے دوچار ہے۔ پاک فوج تمام اداروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اپنے ادارے کے وقار کا بھی ہر حال میں تحفظ کرے گی۔‘‘
چندنکات واضح ہیں۔ یہ غیر معمولی بیان ہے۔ غیر معمولی سوچ بچار کے بعد جاری کیا گیا۔ بیان کے متن میں جانے سے پہلے وہ جگہ جہاں آرمی چیف نے جا کر اسے جاری کرانے کا ماحول بنایا اُسے ضرور سامنے رکھیں۔ یہ کمانڈوز کی تربیت گاہ ہے۔ آرمی چیف کو یہاں کمانڈو کی اصطلاح پر ہونے والے حملوں کا جواب دینا تھا۔ جنرل پرویز مشرف سے متعلق مقدمے پر رائے زنی کرتے ہوئے بعض صاحبان نے بزدل کمانڈو کے اتنے حوالے دیے تھے کہ پاکستان کا یہ دست راست خود کو تختہ مشق محسوس کرنے لگ گیا تھا۔ بیان جاری کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ الفاظ کے چنائو میں اگر احتیاط نہ برتی گئی تو جنرل راحیل شریف اپنے ادارے کے اندر پھیلی ہوئی بے چینی کو سامنے لانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اخباری بیان کے ذریعے اس پیغام کو پہنچانے کا عمل بذات خود اہمیت کا حامل ہے۔
جنرل راحیل شریف کی تعیناتی سے پہلے اور بعد نواز لیگ کی طرف سے چند ایک صحافیوں نے جنرل صاحب کے وزیر اعظم کے ساتھ باہمی جذبہ خیر سگالی کو خوب ابھارا۔ ہر دوسری خبر یا تجزیہ میں جانے والے جرنیل کی سخت طبعیت اور آنے والے آرمی چیف کی بردباری اور نرمی کے تذکرے کو عام کیا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں فاصلوں کو کم ہوتے ہوئے دیکھا گیا اور کچھ ایسے مناظر پیش کیے گئے کہ جیسے جنرل راحیل شریف آرمی کے چیف کے طور پر تعینات نہیں ہوئے بلکہ وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں 22 گریڈ کے افسر کا اضافہ ہوا ہے۔ ظاہر ہے اس قسم کے تجزیے جنرل راحیل شریف کے تعیناتی کے عمل کو جمہوریت کے استحکام کے لیے ایک تمغہ امتیاز کے طور پر پیش کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ ایسی خبریں اور تجزیے لکھے نہیں جاتے لکھوائے جاتے ہیں۔ لیکن کیا آرمی کمانڈ کی تبدیلی کے بعد سویلین قیادت نے نئے موقع کو کسی اصولی نظام کی بنیاد میں تبدیل کیا یا اُس کو آرمی کے اثر و رسوخ اور فیصلہ سازی کے عمل میں وزن کم کرنے کا ایک فارمو لہ سمجھا۔
بعض وزراء کے بیانات نے عسکری حلقوں میں ہلکے پھلکے خدشات کو گہری فکر میں تبدیل کر دیا۔ سوال جنرل پرویز مشرف پر آئین کی شقیں لاگو کرنے کا نہیں عسکری حلقوں کی نظر میں اس مقدمے کا رسہ تمام ادارے کو باندھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے ترکی کی مثال دے کر کوئی خاص غضب نہیں کیا۔ ہم جیسے نامکمل معلومات رکھنے والے صحافی بھی یہ جانتے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف طیب اردگان کے مداح صرف اس وجہ سے ہیں کہ اُس نے فوجی جرنیلوں کو جیل خانوں کی راہ دکھائی (طیب اردگان کا اپنا سیاسی کردار کتنا بے داغ اور انتظامی کارکردگی کتنی بڑھیا ہے یہ زاویہ ترکی پسندوں کی نظر سے ہمیشہ اوجھل رہتا ہے) مگر سعد رفیق کے ترکی حوالوں نے ایک طرح سے اس بلی کو تھیلے سے باہر نکال دیا جو کافی عرصے سے اندر اچھل کود کر کے پنجے مار رہی تھی۔ اس تناظر میں آئی ایس پی آر کی طر ف سے جاری کی ہوئی تصویر شاید پریس ریلیز سے کہیں زیادہ اہم نظر آتی ہے۔ موجودہ آرمی کا سربراہ کمانڈوز کے جھرمٹ میں مکہ لہرا رہا ہے۔ یقینا یہ وہ مکے نہیں ہیں جو جنرل مشرف نے پارلیمان کے سامنے لہرائے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ ایسے مکے بھی نہیں ہیں جو ویسے ہی لہرا دیے جاتے ہیں۔
اب آئیں متن کی جانب اس کا ایک حصہ آرمی چیف کے اُس عزم کے بارے میں ہے جس کا اظہار انھوں نے ان الفاظ میں کیا ’’پاک فوج تمام اداروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اپنے ادارے کے وقار کا بھی ہر حال میں تحفظ کر ے گی‘‘۔ بیان کا دوسرا حصہ آرمی چیف سے منسوب جملے سے بھی کہیں زیادہ قابل غور ہے۔ اس میں جوانوں اور افسران کے تحفظات کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا۔ فوج جیسے ادارے میں پالیسی کے بیانات کی وجوہات نہیں بتائی جاتیں۔ نچلی سطح پر کیا ہو رہا ہے کون کیا سوچتا ہے اور کیا کہتا ہے اوپر جا کر کمانڈر کے الفاظ کے ذریعے سامنے آتا ہے۔ مگر اس پریس ریلیز میں جان بوجھ کر اس امر کو ابھارا گیا کہ آرمی چیف کا یہ بیان اُن کی اپنی خواہشات یا نظریات سے نہیں بنا بلکہ فوج کے ہر کونے میں سے اٹھتی ہوئی آوازوں کے خلاصے کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے۔
دوسرے الفاظ میں معاملہ جنرل راحیل شریف کا نا م نہیں فوج کے ادارے کا ہے۔ نواز لیگ کی طرف سے اس بیان پر ایک روایتی ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپنے چہیتے قلم کاروں کو متحرک کر کے جمہوریت کے زریں اصولوں کی گردان کے ساتھ ساتھ سویلین حکمرانوں کے مینڈیٹ کے تذکرے چھیڑ دیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے بیانات دینے والوں کو رسمی تنیبہ بھی کردی۔ ورنہ نواز لیگ ان کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتی۔ اس قسم کی وضاحتیں اور طرز عمل کو بچگانہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ فوج کو معلوم ہے کہ نواز لیگ کی قیادت کیا سوچتی ہے بالکل ویسے جیسے نواز لیگ کو معلوم ہے کہ فوج کا طرز فکر کیا ہے۔ ان حقائق کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنے رویوں میں تبدیلی لائے بغیر ماحول کو اُس تابکاری کیفیت میں سے نہیں نکالا جا سکتا۔ جس میں یہ پچھلے چند ہفتوں سے پھنسا ہوا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے علاوہ کوئی نظام کارگر نہیں ہو سکتا یہ ملک بہت کثیرالجہت اور انتظامی طور پر ایک مشکل اکائی ہے۔
اس کو ڈنڈے یا بندوق کے زور پر نہیں چلایا جاسکتا مگر اس کے ساتھ ساتھ اِس کے معروضی حالات اور اِس کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر فوج اور خفیہ ایجنسیز کے اداروں کو تحقیر اور تذلیل کے عمل سے گزار کر نظام حکومت نہیں چلایا جا سکتا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل راحیل شریف آرمی کی اُس قیا دت کے نمایندے ہیں جو جنرل پرویز مشرف کے اقدامات سے نہ صرف اختلاف رکھتی ہے بلکہ پاکستان کے بیشتر مسائل کی جڑ بھی قرار دیتی ہے۔ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے ایسی قیادت بہترین معاون کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس موقع کو مصیبت میں تبدیل کر نے سے گریز کرنا ہو گا۔ دنیا میں اول درجے کے جمہوری ممالک بھی دفاعی اداروں کو عزت اور تکریم دینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں ویسا نظام بننے میں ابھی کئی اور برس لگیں گے۔ اس دوران اگر انگشت نمائی اور دشنام طرازی جاری رہی تو معاملات بگڑ سکتے ہیں۔ میاں نواز شریف کو اس اخباری بیان اور اُس کے ساتھ تصویر کو بار بار پڑھنا اور دیکھنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ تین، چار مرتبہ دیکھنے اور پڑھنے کے بعد اِن کو بات سمجھ آ جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں